پاکستان کی فلمی تاریخ میں بڑے بڑے کمال کی بامقصدفلمیں بنائی گئی ہیں۔ 14 اگست کو یوم آزادی کے دن ایسی ہی ایک گمنام فلم ---معجزہ--- پیش کی جارہی ہے جو اصل میں پاکستان کی تاریخ پر ایک دستاویزی فلم ہے جس میں جنگ ستمبر 1965ء کی کہانی کو ایک کمرہ جماعت میں ایک ماسٹر صاحب اپنے شاگردوں کو سنا رہے ہیں۔ جنگ ختم ہو چکی ہے اور بچے سکولوں میں دوبارہ حاضر ہیں اور پوری فلم میں اس جنگ کی وجوہات اور تاریخ پاکستان کےبارے میں طرح طرح کے سوالات کر رہے ہیں اور ماسٹر صاحب پاکستانی نقطہ نظر سے جوابات دے رہے ہیں۔ 1947ء سے لے کر 1965ء کی جنگ تک کے واقعات کے علاوہ کئ ایک یادگار تاریخی فوٹیج بھی دیکھنے کو ملتے ہیں۔ قائد اعظم ، قائد ملت ، جنرل ایوب خان ، جنگ ستمبر کے بہت سے نایاب فوٹیج---خصوصاْ بحری ، بری اور فضائی معرکوں کے علاوہ چونڈہ میں لڑی گئی ٹینکوں کی بہت بڑی لڑائی کے مناظربھی نظر آتے ہیں۔ان کے علاوہ حبیب جالب ، استاد دامن اور منظور جھلا جیسے لی جنڈ شاعروں کو بھی ریڈیو پر پر جوش نظمیں سناتے یہ تہ ب
یہ تو بہت آسان کام ہے
ی
دیکھئے۔
فلم کی کہانی
قیام پاکستان کے نتیجے میں ہونے والے فرقہ وارانہ فسادات میں بے شمار افراد جان بحق ہوئے جبکہ لاکھوں بے گھر ہوئےجن میں ایک ماں اپنے نو عمر بیٹے کے ساتھ پاکستان ہجرت کر کے آتی ہے اور اٹھارہ سال بعد وہ بچہ فوجی وردی میں ملبوس ہو کر مادر وطن کے دفاع کے لئے سر بکف ہوتا ہے۔جنگ کی وجہ سے اس کی شادی بھی منسوخ ہو جاتی ہے اور تمام وسائل جنگی فنڈ میں دے دئے جاتے ہیں لیکن قومی جذبہ میں بڑی شدت ہوتی ہے جو پورے ملک میں صاف نظر آتا ہے۔ فلم کے مرکزی کردار--- اسد بخاری اور صابرہ سلطانہ---کے ہیں اور ---زینت--- نے ماں کا اور --- حمید وائن--- نے ماسٹر جی کارول کیا ہے جبکہ مہمان اداکار کے طور پر بہت سے فنکارنظر آتےہیں۔سندھ سے ---دیبا اور حبیب--- کے کردار ہوتے ہیں تو پنجاب سے ---فردوس اور مظہر شاہ--- ہوتے ہیں جن پر ---میریا شیر جیا ویرا لکھاں عزتاں بچائیں--- جیسا ملی ترانہ بھی فلمایا جاتا ہے ۔صوبہ خیبر پختونخواہ سے --- درپن اور طلعت صدیقی---جذبہ شہادت سے سرشار نظر آتے ہیں تو مشرقی پاکستان سے ---رخسانہ اور اسد جعفری---بھی حب الوطنی کے جذبہ سے معمور ہوتے ہیں۔باقی سبھی فنکار ایک ایک سین میں نظر آتے ہیں جو اس ترتیب سے سکرین پر آتے ہیں: رنگیلا ، لاڈلا ، زمرد ، اسلم پرویز ، شاکر ، علاؤالدین ، سائیں اختر ، ایم ڈی شیخ ، فریدہ ، سلمٰی ممتاز ، طالش ، سدھیر ، سلطان راہی ، زلفی ، آزاد ، محمد علی اور بے شمار دیگر فنکار۔۔
فلم کے ہدایتکار---ایم اے رشید--- ہیں (جن کا حال ہی میں انتقال ہواہے)نے تاریخی واقعات اور ڈرامہ کو بڑی خوبصورتی سے سلو لائیڈ کے فیتے پر منتقل کیا تھا۔
فلم کے گیت
فلم کی موسیقی اختر حسین اکھیاں نے مرتب کی تھی جن کا 18 اگست 2003ء کو انتقال ہوا تھا۔نغمہ نگاروں کے متعلق معلومات نہیں مل سکیں لیکن گلوکاروں میں یہ آنجہانی سلیم رضا کی فلم تھی جن کے پانچ گیت تھے ۔باقی گلوکاروں میں ملکہ ترنم نور جہاں ، نذیر بیگم ، آئرن پروین ، منیر حسین ، مسعودرانا اور سائیں اختر ہیں۔فلم --- معجزہ--- میں چار ترانے ، ایک قوالی اور باقی چار روایتی گیت تھے جو اس طرح سے ہیں:
اسی نے لوٹ لیا جس پہ اعتبار کیا ، جہاں نے خون میرے دل کا بار بار کیا---نذیر بیگم
انسان یہاں بک جاتا ہے، یہ دنیا کیسی منڈی ہے ، ایمان یہاں بک جاتا ہے ---سلیم رضا
کھوئے کھوئے پیار کے خمار میں ، یونہی ڈولتے رہیں بہار میں ---نذیر بیگم ، منیر حسین
توحید کے متوالو، باطل کو مٹا دیں گے ، یہ آج قسم کھا لو ---سلیم رضا ، مسعودرانا مع ساتھی
داتا میرے ، جھولی بھر دے ، میں سوالی تیرے در کا ---سلیم رضا ، مسعودرانا ، سائیں اختر مع ساتھی
میریا شیر جیا ویرا ، لکھاں عزتاں بچاویں ---ملکہ ترنم نور جہاں
سنو جی صنم کی ذات بری ، ہائے جدائی والی رات بری ---نذیر بیگم ، آئرن پروین
میرے وطن کے رکھوالوں نے کیسے وطن بچایا ---سلیم رضا مع ساتھی
اے وطن اسلام کی امید گاہ آخری ، تجھ پر سلام ---سلیم رضا ، مسعودرانا مع ساتھی
یہ فلم 25 فروری 1966ء کو ریلیز ہوئی تھی۔
(اگر آپ کو یہ تحریر نستعلیق خط میں نظر نہیں آرہی تو اپنے کمپئوٹر پر یہ فونٹ انسٹال کریں۔)